“خزاں جو بکھیر گیا” by سانیہ رفیق

500.00

جب میں نے پہلی کہانی لکھی تو مجھے لگا تھا شاید دوبارہ کہانیاں کبھی نہیں لکھ پائو گی
جب میری دوسری کہانی مکمل ہوئی تو مجھے اس بات کا گماں نہیں تھا کہ شاید کبھی میرے نام سے بھی کوئی کتاب چھپے گی مگر زندگی اسی امید اور ناامیدی کے درمیاں کا سفر ہے
میری ہر کہانی میں ایک نیا کردار ہے کہیں مضبوط کہیں کمزور کہیں سمجھدار کہیں ناسمجھ کہیں زندگی کی الجھنوں کو سلجھاتا ہوا تو کہیں گرہوں کو مزید الجھاتا ہوا ،مگر میرے کہانی کے کردار یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اپنی جنگیں انسان کو خود ہی لڑنی پڑتی ہیں اور اس کتاب کو پڑھ کر آپ بھی یہ جان جائیں گے ۔
امید ہے آپ اس کتاب سے ضرور کچھ سیکھیں گے اور اس سیکھی ہوئی بات کو دوسروں تک بھی پہنچائیں گے ۔
– سانیہ رفیق

Category:

Reviews

There are no reviews yet.

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.